کلامِ مومنردیف الف
اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا
اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنامشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا
تاثیر بیقراری ناکام آفریںہے کام ان سے شوخ شمائل کو تھامنا
دیکھے ہے چاندنی وہ زمیں پر نہ گر پڑےاے چرخ اپنے تو مہ کامل کو تھامنا
مضطر ہوں کس کا طرز سخن سے سمجھ گیااب ذکر کیا ہے سامع عاقل کو تھامنا
ہو صرصر فغاں سے نہ کیونکر وہ مضطربمشکل ہوا ہے پردۂ محمل کو تھامنا
سیکھے ہیں مجھ سے نالۂ نے آسماں شکنصیاد اب قفس میں عنادل کو تھامنا
یہ زلف خم بہ خم نہ ہو کیا تاب غیر ہےتیرے جنوں زدے کی سلاسل کو تھامنا
اے ہمدم آہ تلخی ہجراں سے دم نہیںگرتا ہے دیکھ جام ہلاہل کو تھامنا
سیماب وار مر گئے ضبط قلق سے ہمکیا قہر ہے طبیعت مائل کو تھامنا
آغوش گور ہو گئی آخر لہولہانآساں نہیں ہے آپ کے بسمل کو تھامنا
سینہ پہ ہاتھ دھرتے ہی کچھ دم پہ بن گئیلو جان کا عذاب ہوا دل کو تھامنا
باقی ہے شوق چاک گریباں ابھی مجھےبس اے رفوگر اپنی انامل کو تھامنا
مت مانگیو امان بتوں سے کہ ہے حراممومنؔ زبان بیہودہ سائل کو تھامنا
۲ / ۵۶