کلامِ مومنردیف الف
محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیا
۱
محشر میں پاس کیوں دم فریاد آ گیارحم اس نے کب کیا تھا کہ اب یاد آ گیا
۲
الجھا ہے پانوں یار کا زلف دراز میںلو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
۳
ناکامیوں میں تم نے جو تشبیہ مجھ سے دیشیریں کو درد تلخی فرہاد آ گیا
۴
ہم چارہ گر کو یوں ہی پنہائیں گے بیڑیاںقابو میں اپنے گر وہ پری زاد آ گیا
۵
دل کو قلق ہے ترک محبت کے بعد بھیاب آسماں کو شکوۂ بیداد آ گیا
۶
وہ بدگماں ہوا جو کہیں شعر میں مرےذکر بتان خلخ و نوشاد آ گیا
۷
تھے بے گناہ جرأت پا بوس تھی ضرورکیا کرتے وہم خجلت جلاد آ گیا
۸
جو ہو چکا یقیں کہ نہیں طاقت وصالدم میں ہمارے وہ ستم ایجاد آ گیا
۹
ذکر شراب و حور کلام خدا میں دیکھمومنؔ میں کیا کہوں مجھے کیا یاد آ گیا
۱۰ / ۵۶