کلامِ مومنردیف الف

راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا

۱

راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچاکیا ایک بھی ہمارا خط یار تک نہ پہنچا

۲

اللہ رے نا توانی جب شدت قلق میںبالیں سے سر اٹھایا دیوار تک نہ پہنچا

۳

روتے تو رحم آتا سو اس کے روبرو تواک قطرہ خوں بھی چشم خوں بار تک نہ پہنچا

۴

عاشق سے مت بیاں کر قتل عدو کا مژدہپیغام مرگ ہے یہ بیمار تک نہ پہنچا

۵

بے بخت رنگ خوبی کس کام کا کہ میں توتھا گل ولے کسی کی دستار تک نہ پہنچا

۶

مفت اول سخن میں عاشق نے جان دے دیقاصد بیان تیرا اقرار تک نہ پہنچا

۷

تھی خار راہ تیری مژگاں کی یاد پھر شبتا صبح خواب چشم بیدار تک نہ پہنچا

۸

بخت رسا عدو کے جو چاہے سو کہے ابیک بار یار مجھ تک میں یار تک نہ پہنچا

۹

غیروں سے اس نے ہرگز چھوڑی نہ ہاتھاپائیجب تک اجل کا صدمہ دو چار تک نہ پہنچا

۱۰

مومنؔ اسی نے مجھ سے دی برتری کسی کوجو پست فہم میرے اشعار تک نہ پہنچا

۹ / ۵۶