کلامِ مومنردیف الف

دل قابل محبت جاناں نہیں رہا

۱

دل قابل محبت جاناں نہیں رہاوہ ولولہ وہ جوش وہ طغیاں نہیں رہا

۲

ٹھنڈا ہے گرم جوشی افسردگی سے جیکیسا اثر کہ نالہ و افغاں نہیں رہا

۳

کرتے ہیں اپنے زخم جگر کو رفو ہم آپکچھ بھی خیال جنبش مژگاں نہیں رہا

۴

دل سختیوں سے آئی طبیعت میں نازکیصبر و تحمل قلق جاں نہیں رہا

۵

غش ہیں کہ بے دماغ ہیں گل پیرہن نمطاز بس دماغ عطر گریباں نہیں رہا

۶

آنکھیں نہ بدلیں شوخ نظر کیوں کے اب کہ میںمفتون لطف نرگس فتاں نہیں رہا

۷

ناکامیوں کا گاہ گلہ گاہ شکر ہےشوق وصال و اندہ ہجراں نہیں رہا

۸

بے تودہ تودہ خاک سبک دوش ہو گئےسر پر جنون عشق کا احساں نہیں رہا

۹

ہر لحظہ مہر جلووں سے ہیں چشم پوشیاںآئینہ زار دیدۂ حیراں نہیں رہا

۱۰

پھرتے ہیں کیسے پردہ نشینوں سے منہ چھپائےرسوا ہوئے کہ اب غم پنہاں نہیں رہا

۱۱

آسیب چشم قہر پری طلعتاں نہیںاے انس اک نظر کہ میں انساں نہیں رہا

۱۲

بے کاری امید سے فرصت ہے رات دنوہ کاروبار حسرت و حرماں نہیں رہا

۱۳

بے سیر دشت و بادیہ لگنے لگا ہے جیاور اس خراب گھر میں کہ ویراں نہیں رہا

۱۴

کیا تلخ کامیوں نے لب زخم سی دیئےوہ شور اشتیاق نمکداں نہیں رہا

۱۵

بے اعتبار ہو گئے ہم ترک عشق سےاز بس کہ پاس وعدہ و پیماں نہیں رہا

۱۶

نیند آئی ہے فسانۂ گیسو و زلف سےوہم و گمان خواب پریشاں نہیں رہا

۱۷

کس کام کے رہے جو کسی سے رہا نہ کامسر ہے مگر غرور کا ساماں نہیں رہا

۱۸

مومنؔ یہ لاف الفت تقویٰ ہے کیوں مگردلی میں کوئی دشمن ایماں نہیں رہا

۱۴ / ۵۶