کلامِ مومنردیف الف

دیدۂ حیراں نے تماشا کیا

۱

دیدۂ حیراں نے تماشا کیادیر تلک وہ مجھے دیکھا کیا

۲

ضبط فغاں گو کہ اثر تھا کیاحوصلہ کیا کیا نہ کیا کیا کیا

۳

آنکھ نہ لگنے سے شب احباب نےآنکھ کے لگ جانے کا چرچا کیا

۴

مر گئے اس کے لب جاں بخش پرہم نے علاج آپ ہی اپنا کیا

۵

بجھ گئی اک آہ میں شمع حیاتمجھ کو دم سرد نے ٹھنڈا کیا

۶

غیر عیادت سے برا مانتےقتل کیا آن کے اچھا کیا

۷

ان سے پری وش کو نہ دیکھے کوئیمجھ کو مری شرم نے رسوا کیا

۸

زندگیٔ ہجر بھی اک موت تھیمرگ نے کیا کار مسیحا کیا

۹

پان میں یہ رنگ کہاں آپ نےآپ مرے خون کا دعویٰ کیا

۱۰

جور کا شکوہ نہ کروں ظلم ہےراز مرا صبر نے افشا کیا

۱۱

کچھ بھی بن آتی نہیں کیا کیجیےاس کے بگڑنے نے کچھ ایسا کیا

۱۲

جائے تھی تیری مرے دل میں سو ہےغیر سے کیوں شکوۂ بے جا کیا

۱۳

رحم فلک اور مرے حال پرتو نے کرم اے ستم آرا کیا

۱۴

سچ ہی سہی آپ کا پیماں ولےمرگ نے کب وعدۂ فردا کیا

۱۵

دعویٔ تکلیف سے جلاد نےروز جزا قتل پھر اپنا کیا

۱۶

مرگ نے ہجراں میں چھپایا ہے منہلو منہ اسی پردہ نشیں کا کیا

۱۷

دشمن مومنؔ ہی رہے بت سدامجھ سے مرے نام نے یہ کیا کیا

۱۵ / ۵۶