عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا
غلط کہ صانع کو ہو گوارا خراش انگشت ہائے نازکجواب خط کی امید رکھتے جو قول جف القلم نہ ہوتا
About this couplet
This is couplet 10 of 13 in “عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Momin Khan Momin's Urdu book Kalam-e-Momin (کلامِ مومن).
Read it in the poem۱۰ / ۱۳