عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا

وہاں ترقی جمال کو ہے یہاں محبت ہے روز افزوںشریک زیبا تھا بوالہوس بھی جو بے وفائی میں کم نہ ہوتا

About this couplet

This is couplet 9 of 13 in “⁨عدم میں رہتے تو شاد رہتے اسے بھی فکر ستم نہ ہوتا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Momin Khan Momin's Urdu book Kalam-e-Momin (⁨کلامِ مومن⁩).

Read it in the poem

۹ / ۱۳