کلامِ مومنردیف الف
دیکھ لو شوق نا تمام مرا
۱
دیکھ لو شوق نا تمام مراغیر لے جائے ہے پیام مرا
۲
بے اثر ہے فغان خون آلودکیوں نہ ہوئے خراب کام مرا
۳
آتشیں خو سے آرزوئے وصالپک گیا اب خیال خام مرا
۴
دیکھنا کثرت بلا نوشیکاسۂ آسماں ہے جام مرا
۵
رتبہ افتادگی کا دیکھو ہےعرش کے بھی پرے مقام مرا
۶
کس صنم کو چھڑا دیا واعظلے خدا تجھ سے انتقام مرا
۷
ہو کے یوسف جو دل چراتے ہوکون ہو جائے گا غلام مرا
۸
اس لب لعل کی شکایت ہےکیونکہ رنگیں نہ ہو کلام مرا
۹
تو نے رسوا کیا مجھے اب تککوئی بھی جانتا تھا نام مرا
۱۰
زانوئے بت پہ جان دی دیکھامومنؔ انجام و اختتام مرا
۱۱
بندگی کام آ رہی آخرمیں نہ کہتا تھا کیوں سلام مرا
۱۸ / ۵۶