کلامِ مومنردیف الف

لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سا

۱

لگے خدنگ جب اس نالۂ سحر کا سافلک کا حال نہ ہو کیا مرے جگر کا سا

۲

نہ جاؤں گا کبھی جنت میں میں نہ جاؤں گااگر نہ ہووے گا نقشہ تمہارے گھر کا سا

۳

کرے نہ خانہ خرابی تری ندامت جورکہ آب شرم میں ہے جوش چشم تر کا سا

۴

یہ جوش یاس تو دیکھو کہ اپنے قتل کے وقتدعائے وصل نہ کی وقت تھا اثر کا سا

۵

لگے ان آنکھوں سے ہر وقت اے دل صد چاکترا نہ رتبہ ہوا کیوں شگاف در کا سا

۶

ذرا ہو گرمی صحبت تو خاک کر دے چرخمرا سرور ہے گل خندۂ شرر کا سا

۷

یہ ناتواں ہوں کہ ہوں اور نظر نہیں آتامرا بھی حال ہوا تیری ہی کمر کا سا

۸

جنون کے جوش سے بیگانہ وار ہیں احبابہمارا حال وطن میں ہوا سفر کا سا

۹

خبر نہیں کہ اسے کیا ہوا پر اس در پرنشان پا نظر آتا ہے نامہ بر کا سا

۱۰

دل ایسے شوخ کو مومنؔ نے دے دیا کہ وہ ہےمحب حسین کا اور دل رکھے شمر کا سا

۱۹ / ۵۶