کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے
دیتا ہوں اپنے لب کو بھی گلبرگ سے مثالبوسے جو خواب میں ترے رخسار کے لیے
About this couplet
This is couplet 10 of 12 in “کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Momin Khan Momin's Urdu book Kalam-e-Momin (کلامِ مومن).
Read it in the poem۱۰ / ۱۲