کلامِ مومنردیف ے

کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیے

۱

کرتا ہے قتل عام وہ اغیار کے لیےدس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لیے

۲

دیکھا عذاب رنج دل زار کے لیےعاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لیے

۳

دل عشق تیرے نذر کیا جان کیونکہ دوںرکھا ہے اس کو حسرت دیدار کے لیے

۴

قتل اس نے جرم صبر جفا پر کیا مجھےیہ ہی سزا تھی ایسے گنہ گار کے لیے

۵

لے تو ہی بھیج دے کوئی پیغام تلخ ابیہ تجویز زہر ہے ترے بیمار کے لیے

۶

آتا نہیں ہے تو تو نشانی ہی بھیج دےتسکین اضطراب دل زار کے لیے

۷

کیا دل دیا تھا اس لیے میں نے تمہیں کہ تمہو جاؤ یوں عدو مرے اغیار کے لیے

۸

چلنا تو دیکھنا کہ قیامت نے بھی قدمطرز خرام و شوخی رفتار کے لیے

۹

جی میں ہے موتیوں کی لڑی اس کو بھیج دوںاظہار حال چشم گہربار کے لیے

۱۰

دیتا ہوں اپنے لب کو بھی گلبرگ سے مثالبوسے جو خواب میں ترے رخسار کے لیے

۱۱

جینا امید وصل پہ ہجراں میں سہل تھامرتا ہوں زندگانی دشوار کے لیے

۱۲

مومنؔ کو تو نہ لائے کہیں دام میں وہ بتڈھونڈے ہے تار سبحہ کے زنار کے لیے

۵۰ / ۵۶