کلامِ مومنردیف ے
ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے
ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گےہم خاک میں ملنے کی تمنا نہ کریں گے
کیونکر یہ کہیں منت اعدا نہ کریں گےکیا کیا نہ کیا عشق میں کیا کیا نہ کریں گے
ہنس ہنس کے وہ مجھ سے ہی مرے قتل کی باتیںاس طرح سے کرتے ہیں کہ گویا نہ کریں گے
کیا نامے میں لکھوں دل وابستہ کا احوالمعلوم ہے پہلے ہی کہ وہ وا نہ کریں گے
غیروں سے شکر لب سخن تلخ بھی تیراہر چند ہلاہل ہو گوارا نہ کریں گے
بیمار اجل چارہ کو گر حضرت عیسیٰاچھا بھی کریں گے تو کچھ اچھا نہ کریں گے
جھنجھلاتے ہو کیا دیجیے اک بوسہ دہن کاہو جائیں گے لب بند تو غوغا نہ کریں گے
دیوار کے گر پڑتے ہی اٹھنے لگے طوفاںاب بیٹھ کے کونے میں بھی رویا نہ کریں گے
گر سامنے اس کے بھی گرے اشک تو دل سےکیوں روز جزا خون کا دعوا نہ کریں گے
کس وقت کیا مردمک چشم کا شکوہاے پردہ نشیں ہم تجھے رسوا نہ کریں گے
ناصح کف افسوس نہ مل چل تجھے کیا کامپامال کریں گے وہ مجھے یا نہ کریں گے
اس کو میں ٹھہرنے نہ دیا جوش قلق نےاغیار سے ہم شکوۂ بے جا نہ کریں گے
گر ذکر وفا سے یہی غصہ ہے تو اب سےگو قتل کا وعدہ ہو تقاضا نہ کریں گے
مومنؔ وہ غزل کہتے ہیں اب جس سے یہ مضمونکھل جائے کہ ترک در بت خانہ کریں گے
۵۲ / ۵۶