کلامِ مومنردیف ے

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے

۱

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گےفلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے

۲

ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گےنیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے

۳

تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوںاور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے

۴

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لےہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے

۵

ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہملاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے

۶

کر کے زخمی تجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیںگر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشیماں ہوں گے

۷

ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بسایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے

۸

ہم نکالیں گے سن اے موج ہوا بل تیرااس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے

۹

صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیںچارہ فرما بھی کبھی قیدئ زنداں ہوں گے

۱۰

منت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھیزندگی کے لیے شرمندۂ احساں ہوں گے

۱۱

تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہےگل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہوں گے

۱۲

غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرمکیا کہیں اس کے سگ کوچہ کے قرباں ہوں گے

۱۳

داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہیہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے

۱۴

چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیںایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے

۱۵

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہوگیپھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے

۱۶

سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنونوہ ہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہوں گے

۱۷

عمر تو ساری کٹی عشق بتاں میں مومنؔآخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

۵۱ / ۵۶