کلامِ مومنردیف ہ
الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ
۱
الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھبے طاقتی کے طعنے ہیں عذر جفا کے ساتھ
۲
بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھدم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ
۳
بے پردہ غیر پاس اسے بیٹھا نہ دیکھتےاٹھ جاتے کاش ہم بھی جہاں سے حیا کے ساتھ
۴
وہ لالہ رو گیا نہ ہو گلگشت باغ کوکچھ رنگ بوئے گل کے عوض ہے صبا کے ساتھ
۵
اس کی گلی کہاں یہ تو کچھ باغ خلد ہےکس جاے مجھ کو چھوڑ گئی موت لا کے ساتھ
۶
آتی ہے بوئے داغ شب تار ہجر میںسینہ بھی چاک ہو نہ گیا ہو قبا کے ساتھ
۷
گلبانگ کس کا مشورۂ قتل ہو گیاکچھ آج بوئے خوں ہے وہاں کی ہوا کے ساتھ
۸
تھے وعدے سے پھر آنے کے خوش یہ خبر نہ تھیہے اپنی زندگانی اسی بے وفا کے ساتھ
۹
کوچہ سے اپنے غیر کا منہ ہے مٹا سکےعاشق کا سر لگا ہے ترے نقش پا کے ساتھ
۱۰
اللہ رے گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کرمومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ
۳۸ / ۵۶