کلامِ مومنردیف و

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو

۱

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کوعذر کچھ چاہیئے ستانے کو

۲

سنگ در سے ترے نکالی آگہم نے دشمن کا گھر جلانے کو

۳

صبح عشرت ہے وہ نہ شام وصالہاے کیا ہو گیا زمانے کو

۴

بوالہوس روئے میرے گریہ پہ ابمنہ کہاں تیرے مسکرانے کو

۵

برق کا آسمان پر ہے دماغپھونک کر میرے آشیانے کو

۶

سنگ سودا جنوں میں لیتے ہیںاپنا ہم مقبرہ بنانے کو

۷

شکوہ ہے غیر کی کدورت کاسو مرے خاک میں ملانے کو

۸

روز محشر بھی ہوش گر آیاجائیں گے ہم شراب خانے کو

۹

سن کے وصف اس پہ مر گیا ہمدمخوب آیا تھا غم اٹھانے کو

۱۰

کوئی دن ہم جہاں میں بیٹھے ہیںآسماں کے ستم اٹھانے کو

۱۱

نقش پائے رقیب کی محرابنہیں زیبندہ سر جھکانے کو

۱۲

چل کے کعبے میں سجدہ کر مومنؔچھوڑ اس بت کے آستانے کو

۳۷ / ۵۶