کلامِ مومنردیف ہ

دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھ

۱

دل بستگی سی ہے کسی زلف دوتا کے ساتھپالا پڑا ہے ہم کو خدا کس بلا کے ساتھ

۲

کب تک نبھائیے بت ناآشنا کے ساتھکیجے وفا کہاں تلک اس بے وفا کے ساتھ

۳

یاد ہوائے یار نے کیا کیا نہ گل کھلائےآئی چمن سے نکہت گل جب صبا کے ساتھ

۴

مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کیآخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

۵

ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھیہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ

۶

یا رب وصال یار میں کیونکر ہو زندگینکلی ہی جان جاتی ہے ہر ہر ادا کے ساتھ

۷

اللہ رے سوز آتش غم بعد مرگ بھیاٹھتے ہیں میری خاک سے شعلے ہوا کے ساتھ

۸

سو زندگی نثار کروں ایسی موت پریوں روئے زار زار تو اہل عزا کے ساتھ

۹

ہر دم عرق عرق نگہ بے حجاب ہےکس نے نگاہ گرم سے دیکھا حیا کے ساتھ

۱۰

مرنے کے بعد بھی وہی آوارگی رہیافسوس جاں گئی نفس نارسا کے ساتھ

۱۱

دست جنوں نے میرا گریباں سمجھ لیاالجھا ہے ان سے شوخ کے بند قبا کے ساتھ

۱۲

آتے ہی تیرے چل دیئے سب ورنہ یاس کاکیسا ہجوم تھا دل حسرت فزا کے ساتھ

۱۳

میں کینے سے بھی خوش ہوں کہ سب یہ تو کہتے ہیںاس فتنہ گر کو لاگ ہے اس مبتلا کے ساتھ

۱۴

اللہ ری گمرہی بت و بت خانہ چھوڑ کرمومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ

۱۵

مومنؔ وہی غزل پڑھو شب جس سے بزم میںآتی تھی لب پہ جان زہ و حبذا کے ساتھ

۴۰ / ۵۶