کلامِ مومنردیف ہ

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہ

۱

چل پرے ہٹ مجھے نہ دکھلا منہاے شب ہجر تیرا کالا منہ

۲

آرزوئے نظارہ تھی تو نےاتنی ہی بات پر چھپایا منہ

۳

دشمنوں سے بگڑ گئی تو بھیدیکھتے ہی مجھے بنایا منہ

۴

بات پوری بھی منہ سے نکلی نہیںآپ نے گالیوں پہ کھولا منہ

۵

ہو گیا راز عشق بے پردہاس نے پردہ سے جو نکالا منہ

۶

شب غم کا بیان کیا کیجئےہے بڑی بات اور چھوٹا منہ

۷

جب کہا یار سے دکھا صورتہنس کے بولا کہ دیکھو اپنا منہ

۸

کس کو خون جگر پلائے گاساغر مے کو کیوں لگایا منہ

۹

پھر گئی آنکھ مثل قبلہ نماجس طرف اس صنم نے پھیرا منہ

۱۰

گھر میں بیٹھے تھے کچھ اداس سے وہبولے بس دیکھتے ہی میرا منہ

۱۱

ہم بھی غمگین سے ہیں آج کہیںصبح اٹھے تھے دیکھ تیرا منہ

۱۲

سنگ اسود نہیں ہے چشم بتاںبوسہ مومنؔ طلب کرے کیا منہ

۴۱ / ۵۶