کلامِ مومنردیف ن
تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میں
تا نہ پڑے خلل کہیں آپ کے خواب ناز میںہم نہیں چاہتے کمی اپنی شب دراز میں
اور ہی رنگ آج ہے عارض گل عذار کاخون دل اپنا تھا مگر گو نہ رخ طراز میں
کیونکہ نہ آدھی آدھی رات جاگے وہ جس کا دھیان ہوآہوئے نیم خواب میں نرگس نیم باز میں
خسرو عیش وصل یار جاں کنی اور کوہ کناپنا جگر تو خوں ہوا عشق کے امتیاز میں
بن ترے بزم صور میں ہیں یہ قباحتیں کہ ہےنغمۂ صور کا اثر نغمۂ نے نواز میں
ان سے اب التفات کی غیر کو ہیں شکایتیںسن کے مرا مبالغہ منت احتراز میں
کیا سبھی سینے جل چکے کیا سبھی دل پگھل چکےبوئے کباب اب نہیں آہ جگر گداز میں
پردہ نشیں کے عشق میں پردہ دری نہ ہو کہیںہوتی ہیں بے حجابیاں جان نہفتہ راز میں
رخنۂ در سے غیر پاس دیکھا کسے کہ آج ہےرخنہ گری کچھ اور ہی نالۂ رخنہ ساز میں
یاد بتاں میں لاکھ بار فرط قلق سے ہم بھی توبیٹھے اٹھے ہیں مومنؔ آپ گر رہے شب نماز میں
۳۲ / ۵۶