کلامِ مومنردیف ن

تاثیر صبر میں نہ اثر اضطراب میں

۱

تاثیر صبر میں نہ اثر اضطراب میںبیچارگی سے جان پڑی کس عذاب میں

۲

بے نالہ منہ سے جھڑتے ہیں بے گریہ آنکھ سےاجزائے دل کا حال نہ پوچھ اضطراب میں

۳

چرخ و زمیں میں توبہ کا ملتا نہیں سراغہنگامۂ بہار و ہجوم سحاب میں

۴

اے زہرہ چہرہ دشمن منحوس کو نہ دیکھنالے بہیں گے خون کے اس فتح یاب میں

۵

اتنی کدورت اشک میں حیراں ہوں کیا کہوںدریا میں ہے سراب کہ دریا سراب میں

۶

فکر مآل سے مے و شاہد رہے عزیزپیری میں موت یاد تھی پیری شباب میں

۷

تم نکلے بہر سیر تو نکلے گا مہر بھیہووے گا اجتماع شب ماہتاب میں

۸

ڈوبی ہجوم اشک سے کشتی زمین کیماہی کو اضطراب ہوا جوش آب میں

۹

کھولا جو دفتر گلہ اپنا زیاں کیاگزری شب وصال ستم کے حساب میں

۱۰

اے حشر جلد کر تہہ و بالا جہان کویوں کچھ نہ ہو امید تو ہے انقلاب میں

۱۱

قاتل جفا سے باز نہ آیا وفا سے ہمفتراک میں جو سر ہے تو جاں ہے رکاب میں

۱۲

بازیچہ کر دیا ستم یار و جور چرخطفلی سے غلغلہ ہے مرا شیخ و شاب میں

۱۳

مومنؔ یہ عالم اس صنم جاں فزا کا ہےدل لگ گیا جہان سراسر خراب میں

۳۱ / ۵۶