کلامِ مومنردیف و

اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کو

۱

اعجاز جاں دہی ہے ہمارے کلام کوزندہ کیا ہے ہم نے مسیحا کے نام کو

۲

لکھو سلام غیر کے خط میں غلام کوبندے کا بس سلام ہے ایسے سلام کو

۳

اب شور ہے مثال جو دی اس خرام کویوں کون جانتا تھا قیامت کے نام کو

۴

آتا ہے بہر قتل وہ دور اے ہجوم یاسگھبرا نہ جاے دیکھ کہیں اژدحام کو

۵

گو آپ نے جواب برا ہی دیا ولےمجھ سے بیاں نہ کیجے عدو کے پیام کو

۶

یاں وصل ہے تلافی ہجراں میں اے فلککیوں سوچتا ہے تازہ ستم انتقام کو

۷

تیرے سمند ناز کی بے جا شرارتیںکرتے ہیں آگ نالۂ اندیشہ کام کو

۸

گریہ پہ میرے زندہ دلو ہنستے کیا ہو آہروتا ہوں اپنے میں دل جنت مقام کو

۹

سہ سہ کے نادرست تری خو بگاڑ دیہم نے خراب آپ کیا اپنے کام کو

۱۰

اس سے جلا کے غیر کو امید پختگیلگ جائے آگ دل کے خیالات خام کو

۱۱

بخت سپید آئینہ داری کرے تو میںدکھلاؤں دل کے جور اس آئینہ فام کو

۱۲

جب تو چلے جنازۂ عاشق کے ساتھ ساتھپھر کون وارثوں کے سنے اذن عام کو

۱۳

شاید کہ دن پھرے ہیں کسی تیرہ روز کےاب غیر اس گلی میں نہیں پھرتے شام کو

۱۴

مدت سے نام سنتے تھے مومنؔ کا بارے آجدیکھا بھی ہم نے اس شعرا کے امام کو

۳۶ / ۵۶