کلامِ سوداردیف الف
آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بنا
۱
آدم کا جسم جب کہ عناصر سے مل بناکچھ آگ بچ رہی تھی سو عاشق کا دل بنا
۲
سرگرم نالہ ان دنوں میں بھی ہوں عندلیبمت آشیاں چمن میں مرے متصل بنا
۳
جب تیشہ کوہ کن نے لیا ہاتھ تب یہ عشقبولا کہ اپنی چھاتی پہ دھرنے کو سل بنا
۴
جس تیرگی سے روز ہے عشاق کا سیاہشاید اسی سے چہرۂ خوباں پہ تل بنا
۵
لب زندگی میں کب ملے اس لب سے اے کلالساغر ہماری خاک کو متھ کرکے گل بنا
۶
اپنا ہنر دکھاویں گے ہم تجھ کو شیشہ گرٹوٹا ہوا کسی کا اگر ہم سے دل بنا
۷
سن سن کے عرض حال مرا یار نے کہاسوداؔ نہ باتیں بیٹھ کے یاں متصل بنا
۱ / ۶۱