کلامِ سوداردیف الف

اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیا

۱

اپنے کا ہے گناہ بیگانے نے کیا کیااس دل کو کیا کہوں کہ دوانے نے کیا کیا

۲

یاں تک ستانا مج کو کہ رو رو کہے تو ہائےیارو نہ تم سنا کہ فلانے نے کیا کیا

۳

پردہ تو راز عشق سے اے یار اٹھ چکابے سود ہم سے منہ کے چھپانے نے کیا کیا

۴

آنکھوں کی رہبری نے کہوں کیا کہ دل کے ساتھکوچے کی اس کے راہ بتانے نے کیا کیا

۵

کام آئی کوہ کن کی مشقت نہ عشق میںپتھر سے جوئے شیر کے لانے نے کیا کیا

۶

ٹک در تک اپنے آ مرے ناصح کا حال دیکھمیں تو دوانا تھا پہ سیانے نے کیا کیا

۷

چاہوں میں کس طرح یہ زمانے کی دوستیاوروں سے دوست ہو کے زمانے نے کیا کیا

۸

کہتا تھا میں گلے کا ترے ہو پڑوں گا ہاردیکھا نہ گل کو سر پہ چڑھانے نے کیا کیا

۹

سوداؔ ہے بے طرح کا نشہ جام عشق میںدیکھا کہ اس کو منہ کے لگانے نے کیا کیا

۲ / ۶۱