کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا

میں کیا کروں ادائے غضب ناک کا بیاںبجلی سا میرے سامنے آ کر کڑک گیا

About this couplet

This is couplet 2 of 6 in “⁨کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Muhammad Rafi Sauda's Urdu book Kalam-e-Sauda (⁨کلامِ سودا⁩).

Read it in the poem

۲ / ۶