کلامِ سوداردیف الف

کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا

۱

کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیاتیغا سا کچھ نظر میں ہماری سڑک گیا

۲

میں کیا کروں ادائے غضب ناک کا بیاںبجلی سا میرے سامنے آ کر کڑک گیا

۳

نالے سے میرے گل تو ہوا چاک پیرہنبلبل ترا جگر نہ یہ سن کر تڑک گیا

۴

کوئی گیا نہ خوف سے قاتل کے سامنےمیں ہی تھا اس کے رو بہ رو جو بے دھڑک گیا

۵

مشکل پڑے گا پھر تو بجھانا جہان کاجو ٹک زیادہ عشق کا شعلہ بھڑک گیا

۶

سوداؔ چرا چکا ہی تھا گلشن میں گل کو میںقسمت کو اپنی کیا کہوں پتا کھڑک گیا

۶ / ۶۱