کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا

کوئی گیا نہ خوف سے قاتل کے سامنےمیں ہی تھا اس کے رو بہ رو جو بے دھڑک گیا

About this couplet

This is couplet 4 of 6 in “⁨کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Muhammad Rafi Sauda's Urdu book Kalam-e-Sauda (⁨کلامِ سودا⁩).

Read it in the poem

۴ / ۶