کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا
سوداؔ چرا چکا ہی تھا گلشن میں گل کو میںقسمت کو اپنی کیا کہوں پتا کھڑک گیا
About this couplet
This is couplet 6 of 6 in “کہتے ہیں لوگ یار کا ابرو پھڑک گیا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Muhammad Rafi Sauda's Urdu book Kalam-e-Sauda (کلامِ سودا).
Read it in the poem۶ / ۶