کلامِ سوداردیف الف
ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا
۱
ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کاموسیٰ نہیں کہ سیر کروں کوہ طور کا
۲
پڑھیے درود حسن صبیح و ملیح پرجلوہ ہر ایک پر ہے محمد کے نور کا
۳
توڑوں یہ آئنہ کہ ہم آغوش عکس ہےہووے نہ مج کو پاس جو تیرے حضور کا
۴
بیکس کوئی مرے تو جلے اس پہ دل مراگویا ہے یہ چراغ غریباں کی گور کا
۵
ہم تو قفس میں آن کے خاموش ہو رہےاے ہم صفیر فائدہ ناحق کے شور کا
۶
ساقی سے کہہ کہ ہے شب مہتاب جلوہ گردے بسمہ پوش ہو کے تو ساغر بلور کا
۷
سوداؔ کبھی نہ مانیو واعظ کی گفتگوآوازۂ دہل ہے خوش آیند دور کا
۱۷ / ۶۱