کلامِ سوداردیف الف

اے دیدہ خانماں تو ہمارا ڈبو سکا

۱

اے دیدہ خانماں تو ہمارا ڈبو سکالیکن غبار یار کے دل سے نہ دھو سکا

۲

تجھ حسن نے دیا نہ کبھو مفسدی کو چینفتنہ نہ تیرے دور میں پھر نیند سو سکا

۳

جو شمع تن ہوا شب ہجراں میں صرف اشکپر جس قدر میں چاہے تھا اتنا نہ رو سکا

۴

سوداؔ قمار عشق میں شیریں سے کوہ کنبازی اگرچہ پا نہ سکا سر تو کھو سکا

۵

کس منہ سے پھر تو آپ کو کہتا ہے عشق بازاے رو سیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا

۱۶ / ۶۱