مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے
نہیں ہے جائے ترنم یہ بوستاں کہ نہیںسوائے خون جگر مے ایاغ میں گل کے
About this couplet
This is couplet 4 of 5 in “مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Mirza Muhammad Rafi Sauda's Urdu book Kalam-e-Sauda (کلامِ سودا).
Read it in the poem۴ / ۵