کلامِ سوداردیف ے

مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کے

۱

مگر وہ دید کو آیا تھا باغ میں گل کےکہ بو کچھ اور میں پائی دماغ میں گل کے

۲

عدو بھی ہو سبب زندگی جو حق چاہےنسیم صبح ہے روغن چراغ میں گل کے

۳

چمن کھلیں ہیں پہنچ بادہ لے کے اے ساقیگرفتہ دل مجھے مت کر فراغ میں گل کے

۴

نہیں ہے جائے ترنم یہ بوستاں کہ نہیںسوائے خون جگر مے ایاغ میں گل کے

۵

علی کا نقش قدم ڈھونڈھتا ہے یوں سوداؔپھرے ہے باد سحر جوں سراغ میں گل کے

۴۷ / ۶۱