غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
سوداؔ نے اپنے خوں کی دیت تم سے یک نگاہچاہی تو اتنی بات سے انکار کر چلے
About this couplet
This is couplet 9 of 10 in “غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے” in the section Ghazals — Radeef Bari Ye, from Mirza Muhammad Rafi Sauda's Urdu book Kalam-e-Sauda (کلامِ سودا).
Read it in the poem۹ / ۱۰