کلامِ سوداردیف ے
غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلے
۱
غنچے سے مسکرا کے اسے زار کر چلےنرگس کو آنکھ مار کے بیمار کر چلے
۲
پھرتے ہو باغ سے تو پکارے ہے عندلیبصبح بہار گل پہ شب تار کر چلے
۳
اٹھتے ہوئے جو دیر سے لی مدرسے کی راہتسبیح شیخ شہر کی زنار کر چلے
۴
آئے جو بزم میں تو اٹھا چہرے سے نقابپروانے ہی کو شمع سے بیزار کر چلے
۵
آزاد کرتے تم ہمیں قید حیات سےاس کے عوض جو دل کو گرفتار کر چلے
۶
اٹھ کر ہمارے پاس سے گھر تک رقیب کےپہنچے گا وہ کوئی جو ہمیں مار کر چلے
۷
لو خوش رہو گھر اپنے میں جس شکل سے ہو تمدو چار نالے ہم پس دیوار کر چلے
۸
اندوہ و درد و غم نے کیا عزم جب ادھرہم کو عدم سے قافلہ سالار کر چلے
۹
سوداؔ نے اپنے خوں کی دیت تم سے یک نگاہچاہی تو اتنی بات سے انکار کر چلے
۱۰
پیارے خدا کے واسطے ٹک اپنے دل کے بیچانصاف تو کرو یہ کسے مار کر چلے
۵۲ / ۶۱