کلامِ سوداردیف ے

گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے

۱

گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہےدل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہے

۲

نالاں ہوں مدتوں سے ترے سایہ کے تلےپوچھا نہ یہ کبھو پس دیوار کون ہے

۳

ہر شب شراب خوار ہر اک دن سیاہ ہےآشفتہ زلف و لٹپٹی دستار کون ہے

۴

ہر آن دیکھتا ہوں میں اپنے صنم کو شیختیرے خدا کا طالب دیدار کون ہے

۵

سوداؔ کو جرم عشق سے کرتے ہیں آج قتلپہچانتا ہے تو یہ گنہ گار کون ہے

۵۶ / ۶۱