کلامِ سوداردیف ے

یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دے

۱

یا رب کہیں سے گرمئ بازار بھیج دےدل بیچتا ہوں کوئی خریدار بھیج دے

۲

اپنی بساط میں تو یہی دل ہے میری جاںلیتا نہیں تو کیا کروں اے یار بھیج دے

۳

دعویٰ جو برشگال کو آنکھوں سے ہے مریایسا کوئی جو ابر گہربار بھیج دے

۴

دیتے ہیں عقد حسن میں عاشق عروس جاںآتا نہیں جو آپ تو تلوار بھیج دے

۵

سوداؔ سے غم گسار کا تھا دل یہ تیں لیااس کے عوض بھلا کوئی غم خوار بھیج دے

۵۵ / ۶۱