کلامِ سوداردیف ن
گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میں
۱
گر کیجئے انصاف تو کی زور وفا میںخط آتے ہی سب چل گئے اب آپ ہیں یا میں
۲
تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے ان کیلیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلا میں
۳
رکھتا ہے کچھ ایسی وہ برہمن بچہ رفتاربت ہو گیا دھج دیکھ کے جس کی بہ خدا میں
۴
یارو نہ بندھی اس سے کبھو شکل ملاقاتملنے کو تو اس شوخ کے ترسا ہی کیا میں
۵
جب میں گیا اس کے تو اسے گھر میں نہ پایاآیا وہ اگر میرے تو در خود نہ رہا میں
۶
کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں
۳۵ / ۶۱