کلامِ سوداردیف ن

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیں

۱

عاشق کی بھی کٹتی ہیں کیا خوب طرح راتیںدو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں

۲

قرباں ہوں مجھے جس دم یاد آتی ہیں وہ باتیںکیا دن وہ مبارک تھے کیا خوب تھیں وہ راتیں

۳

اوروں سے چھٹے دل بر دل دار ہووے میرابرحق ہیں اگر پیرو کچھ تم میں کراماتیں

۴

کل لڑ گئیں کوچے میں آنکھوں سے مری آنکھیاںکچھ زور ہی آپس میں دو دو ہوئیں سمگھاتیں

۵

کشمیر سی جاگہ میں نا شکر نہ رہ زاہدجنت میں تو اے گیدی مارے ہے یہ کیوں لاتیں

۶

اس عشق کے کوچے میں زاہد تو سنبھل چلناکچھ پیش نہ جاویں گی یاں تیری مناجاتیں

۷

اس روز میاں مل کر نظروں کو چراتے تھےتجھ یاد میں ہی ساجن کرتے ہیں مداراتیں

۸

سوداؔ کو اگر پوچھو احوال ہے یہ اس کادو چار گھڑی رونا دو چار گھڑی باتیں

۳۴ / ۶۱