دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار
کیوں پھنسا گلشن میں یوں جا کر عبث سودا تو ابمیں نہ کہتا تھا تجھے وہ دیکھ آتی ہے بہار
About this couplet
This is couplet 5 of 5 in “دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار” in the section Ghazals — Radeef Re, from Mirza Muhammad Rafi Sauda's Urdu book Kalam-e-Sauda (کلامِ سودا).
Read it in the poem۵ / ۵