کلامِ سوداردیف ر
دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار
۱
دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہاردیکھیے کیا کچھ ہمارے سر پہ لاتی ہے بہار
۲
شاید عزم یار کی گلشن میں پہنچی ہے خبرگل کے پیراہن میں پھولی نئیں سماتی ہے بہار
۳
دیکھنے دے باغباں اب گلستاں اپنا مجھےحلقۂ زنجیر میں مہماں بلاتی ہے بہار
۴
شور یہ غنچوں کے واشد کا نہیں اے عندلیباب چمن میں طمطراق اپنا دکھاتی ہے بہار
۵
کیوں پھنسا گلشن میں یوں جا کر عبث سودا تو ابمیں نہ کہتا تھا تجھے وہ دیکھ آتی ہے بہار
۲۳ / ۶۱