کلامِ سوداردیف ت
ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست
۱
ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرستپوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست
۲
اس دور میں گئی ہے مروت کی آنکھ پھوٹمعدوم ہے جہان سے چشم حیا پرست
۳
دیکھا ہے جب سے رنگ کفک تیرے پاؤں میںآتش کو چھوڑ گبر ہوئے ہیں حنا پرست
۴
چاہے کہ عکس دوست رہے تجھ میں جلوہ گرآئینہ دار دل کو رکھ اپنے صفا پرست
۵
آوارگی سے خوش ہوں میں اتنا کہ بعد مرگہر ذرہ میری خاک کا ہوگا ہوا پرست
۶
خاک فنا کو تاکہ پرستش تو کر سکےجوں خضر مست کھائیو آب بقا پرست
۷
سوداؔ سے شخص کے تئیں آزردہ کیجیےاے خود پرست حیف نہیں تو ہوا پرست
۱۹ / ۶۱