کلامِ سوداردیف ت

ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارت

۱

ہستی کو تری بس ہے میاں گل کی اشارتکافی ہے مرے نالے کو بلبل کی اشارت

۲

فتویٰ طلب اے یار نہ قاضی سے کروں میںتوبہ شکنی کو ہے مری مل کی اشارت

۳

مل بیٹھ میری آنکھوں میں ہے ساعت نیک آجیہ چشم ترازو ہیں ترے تل کی اشارت

۴

ہے باعث جمعیت دل ایک جہاں کیاے شوخ پریشانیٔ کاکل کی اشارت

۵

تقویٰ کے نہیں بار سے قد خم ترا اے شیخاک خلق میں مشہور ہے اس پل کی اشارت

۶

یاد آئے تری زلف نہ مجھ کو جو چمن میںدے تاب مرے دل کو نہ سنبل کی اشارت

۷

عشاق کو تجھ چشم کے حاجت نہیں مے کیبے ہوش کرے سوداؔ کو قلقل کی اشارت

۲۰ / ۶۱