کلامِ سوداردیف و
ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو
۱
ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہودل یار سے پھٹے تو کسی سے رفو نہ ہو
۲
اس دل کو دے کے لوں دو جہاں یہ کبھو نہ ہوسودا تو ہووے تب یہ کہ جب اس میں تو نہ ہو
۳
آئینۂ وجود عدم میں اگر تراوہ درمیاں نہ ہو تو کہیں ہم کو رو نہ ہو
۴
جھگڑا تو حسن و عشق کا چکتا ہے پل کے بیچگر محکمے میں قاضی کے تو روبرو نہ ہو
۵
قطرہ کی کھل گئی ہے گرہ ورنہ اے نسیمشور دماغ مرغ چمن گل کی بو نہ ہو
۶
گزرے سو گزرے اہل زمیں اوپر اے فلکآئندہ یاں تلک تو کوئی خوب رو نہ ہو
۷
دل لے کے تجھ سے برق کے شعلے کو دیجیےپر ہے یہ ڈر کہ اس کی بھی ایسی ہی خو نہ ہو
۸
گل کی نہ تخم مرغ چمن کر سکے تلاشہم خام فطرتوں سے تری جستجو نہ ہو
۹
سوداؔ بدل کے قافیہ تو اس غزل کو کہہاے بے ادب تو درد سے بس دوبدو نہ ہو
۳۷ / ۶۱