کلامِ سوداردیف و
دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہو
۱
دل دار اس کو خواہ دل آزار کچھ کہوسنتا نہیں کسو کی مرا یار کچھ کہو
۲
غمزہ ادا نگاہ تبسم ہے دل کا مولتم بھی اگر ہو اس کے خریدار کچھ کہو
۳
شیریں نے کوہ کن سے منگائی تھی جوئے شیرگر امتحاں ہے اس سے بھی دشوار کچھ کہو
۴
ہر آن آ مجھی کو ستاتے ہو ناصحوسمجھا کے تم اسے بھی تو یک بار کچھ کہو
۵
اے ساکنان کنج قفس صبح کو صباسنتے ہیں جائے گی سوئے گلزار کچھ کہو
۶
عالم کی گفتگو سے تو آتی ہے بوئے خوںبندہ ہے اک نگہ کا گنہ گار کچھ کہو
۷
سوداؔ موافقت کا سبب جانتا ہے یارسمجھے مخالف اس کو کچھ اغیار کچھ کہو
۳۸ / ۶۱