کلامِ ولیردیف الف

مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جا

۱

مت غصہ کے شعلے سوں جلتے کوں جلاتی جاٹک مہر کے پانی سوں تو آگ بجھاتی جا

۲

تجھ چال کی قیمت سوں دل نیں ہے مرا واقفاے مان بھری چنچل ٹک بھاؤ بتاتی جا

۳

اس رات اندھاری میں مت بھول پڑوں تجھ سوںٹک پاؤں کے جھانجھر کی جھنکار سناتی جا

۴

مجھ دل کے کبوتر کوں باندھا ہے تری لٹ نےیہ کام دھرم کا ہے ٹک اس کو چھڑاتی جا

۵

تجھ مکھ کی پرستش میں گئی عمر مری ساریاے بت کی پجن‌ ہاری ٹک اس کو پجاتی جا

۶

تجھ عشق میں جل جل کر سب تن کوں کیا کاجلیہ روشنی افزا ہے انکھیا کو لگاتی جا

۷

تجھ نیہ میں دل جل جل جوگی کی لیا صورتیک بار اسے موہن چھاتی سوں لگاتی جا

۸

تجھ گھر کی طرف سندر آتا ہے ولیؔ دائممشتاق درس کا ہے ٹک درس دکھاتی جا

۶ / ۳۴