کلامِ ولیردیف الف

جب تجھ عرق کے وصف میں جاری قلم ہوا

۱

جب تجھ عرق کے وصف میں جاری قلم ہواعالم میں اس کا ناؤں جواہر رقم ہوا

۲

نقطے پہ تیرے خال کے باندھا ہے جن نے دلوو دائرہ میں عشق کے ثابت قدم ہوا

۳

تجھ فطرت بلند کی خوبی کوں لکھ قلممشہور جگ کے بیچ عطارد رقم ہوا

۴

طاقت نہیں کہ حشر میں ہووے وو دادخواہجس بے گنہ پہ تیری نگہ سوں ستم ہوا

۵

بے منت شراب ہوں سر شار انبساطتجھ نین کا خیال مجھے جام جم ہوا

۶

جن نے بیاں لکھا ہے مرے رنگ زرد کااس کوں خطاب غیب سوں زریں رقم ہوا

۷

شہرت ہوئی ہے جب سے ترے شعر کی ولیؔمشتاق تجھ سخن کا عرب تا عجم ہوا

۷ / ۳۴