کلامِ ولیردیف الف

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کا

۱

دیکھنا ہر صبح تجھ رخسار کاہے مطالعہ مطلع انوار کا

۲

بلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیںکام ہے تجھ چہرۂ گل نار کا

۳

صبح تیرا درس پایا تھا صنمشوق دل محتاج ہے تکرار کا

۴

ماہ کے سینے اپر اے شمع روداغ ہے تجھ حسن کی جھلکار کا

۵

دل کوں دیتا ہے ہمارے پیچ و تابپیچ تیرے طرۂ طرار کا

۶

جو سنیا تیرے دہن سوں یک بچنبھید پایا نسخۂ اسرار کا

۷

چاہتا ہے اس جہاں میں گر بہشتجا تماشا دیکھ اس رخسار کا

۸

آرسی کے ہاتھ سوں ڈرتا ہے خطچور کوں ہے خوف چوکیدار کا

۹

سرکشی آتش مزاجی ہے سببناصحوں کو گرمئ بازار کا

۱۰

اے ولیؔ کیوں سن سکے ناصح کی باتجو دوانا ہے پری رخسار کا

۹ / ۳۴