کلامِ ولیردیف ن

میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہو رہا ہوں

۱

میں عاشقی میں تب سوں افسانہ ہو رہا ہوںتیری نگہ کا جب سوں دیوانہ ہو رہا ہوں

۲

اے آشنا کرم سوں یک بار آ درس دےتجھ باج سب جہاں سوں بیگانہ ہو رہا ہوں

۳

باتاں لگن کی مت پوچھ اے شمع بزم خوبیمدت سے تجھ جھلک کا پروانہ ہو رہا ہوں

۴

شاید وو گنج خوبی آوے کسی طرف سوںاس واسطے سراپا ویرانہ ہو رہا ہوں

۵

سودائے زلف خوباں رکھتا ہوں دل میں دائمزنجیر عاشقی کا دیوانہ ہو رہا ہوں

۶

برجا ہے گر سنوں نئیں ناصح تری نصیحتمیں جام عشق پی کر مستانہ ہو رہا ہوں

۷

کس سوں ولیؔ اپس کا احوال جا کہوں میںسر تا قدم میں غم سوں غم خانہ ہو رہا ہوں

۱۰ / ۳۴