کلامِ ولیردیف ے
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
۱
مفلسی سب بہار کھوتی ہےمرد کا اعتبار کھوتی ہے
۲
کیونکے حاصل ہو مج کو جمعیتزلف تیری قرار کھوتی ہے
۳
ہر سحر شوخ کی نگہ کی شرابمجھ انکھاں کا خمار کھوتی ہے
۴
کیونکے ملنا صنم کا ترک کروںدلبری اختیار کھوتی ہے
۵
اے ولیؔ آب اس پری رو کیمجھ سنے کا غبار کھوتی ہے
۲۲ / ۳۴