کلامِ ولیردیف ے

جسے عشق کا تیر کاری لگے

۱

جسے عشق کا تیر کاری لگےاسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

۲

نہ چھوڑے محبت دم مرگ تکجسے یار جانی سوں یاری لگے

۳

نہ ہووے اسے جگ میں ہرگز قرارجسے عشق کی بے قراری لگے

۴

ہر اک وقت مجھ عاشق پاک کوںپیارے تری بات پیاری لگے

۵

ولیؔ کوں کہے تو اگر یک بچنرقیباں کے دل میں کٹاری لگے

۲۳ / ۳۴