کلامِ ولیردیف ے
ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے
۱
ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہےطلب میں ہوں تمنا کی قسم ہے
۲
سراپا ناز ہے تو اے پری رومجھے تیرے سراپا کی قسم ہے
۳
دیا حق حسن بالا دست تجکوںمجھے تجھ سرو بالا کی قسم ہے
۴
کیا تجھ زلف نے جگ کوں دواناتری زلفاں کے سودا کی قسم ہے
۵
دو رنگی ترک کر ہر اک سے مت ملتجھے تجھ قد رعنا کی قسم ہے
۶
کیا تجھ عشق نے عالم کوں مجنوںمجھے تجھ رشک لیلیٰ کی قسم ہے
۷
ولیؔ مشتاق ہے تیری نگہ کامجھے تجھ چشم شہلا کی قسم ہے
۲۴ / ۳۴