کلامِ ولیردیف ے
عشق میں صبر و رضا درکار ہے
۱
عشق میں صبر و رضا درکار ہےفکر اسباب وفا درکار ہے
۲
چاک کرنے جامۂ صبر و قراردلبر رنگیں قبا درکار ہے
۳
ہر صنم تسخیر دل کیونکر سکےدل ربائی کوں ادا درکار ہے
۴
زلف کوں وا کر کہ شاہ عشق کوںسایۂ بال ہما درکار ہے
۵
رکھ قدم مجھ دیدۂ خوں بار پرگر تجھے رنگ حنا درکار ہے
۶
دیکھ اس کی چشم شہلا کوں اگرنرگس باغ حیا درکار ہے
۷
عزم اس کے وصل کا ہے اے ولیؔلیکن امداد خدا درکار ہے
۲۹ / ۳۴